چوری اور چُغلی

(بوستانِ سعدی سے اقتباس)

ایک دِن ایک شخص نے ایک بات کہی کہ “غیبت سے تو چوری ہی اچھی ہے “ اُس وقت تو میں (سعدی) نے اُس کی بات کو مذاق سمجھا اور مجھے اُس کی بات عجیب بھی لگی لیکن جب اُس نے دلیل دی تو میں (سعدی) مانے بغیر رہ نہ سکا ۔۔۔

اُس نے کہا ! چور تو بہادری کرتا ہے لوگوں سے چھین کر اپنا پیٹ پالتا ہے اور چغل خور کتنا بیوقوف ہوتا ہے اپنا نامہ اعمال بھی کالا کرتا ہے اور پیٹ بھی خالی کا خالی رہتا ہے ۔۔۔۔