گریڈوں اور عہدوں سے بھرا اسلام آباد پاکستان کا کوفہ ہے ، حسن نثار کی اس بات میں کتنی سچائی ہے ؟ اسی اسلام آباد کے ایف ایٹ کے قبرستان میں اکثر کیوں چلا جاتا ہوں ؟ ارشاد بھٹی کی ایک انمول تحریر

اسلام آباد کا موسم پھر خوشگوار ،صبح بارش ،دوپہر بادلوں بھری ،شام خنکی بھری دھند، پھر سے پنڈ(گاؤں) یاد آرہا، پتا نہیں موسم خوشگوار ہو ،ڈوبتا سورج دیکھ لوں، چڑھتے سورج پر نظر پڑ جائے، پنڈ کیوں یادآئے، مٹی کی کشش، بچپن کی یادیں ،کچھ تو ہے ،دیکھوں تو پنڈ میں کچھ نہ رہا،

نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ماں ،باپ چلے گئے ،بہن ،بھائی شہروں میں آگئے، یا ردوست پنڈ چھوڑ چکے، سوچوں تو سب کچھ وہیں ، ماں، باپ کی قبریں ،قدم قدم پر ان گنت انمول یادیں ، اکثر اسلام آباد سے لاہور جاتے پنڈی بھٹیاں آئے ، گاڑی خود بخود رک جائے،باہر نکلوں ،لمبے لمبے سانس لوں ، آنکھیں بھیگ جائیں ، کئی بار ایسے ہوا، موٹروے سے اترا، پنڈی بھٹیاں شہر آیا ، گاڑی ایک طرف کھڑی کی ، آتے جاتے لوگوں کو دیکھتا رہا ، دو چار مرتبہ یہ بھی ہوا، اپنے ہائی اسکول پہنچ گیا، اکیلا اسکول میں گھومتا رہا ، دیکھتا رہا ، یہاں ہماری کلاس بیٹھاکرتی ، یہاں طاہر عزیز سے لڑائی ہوئی ،یہاں سے دیوار پھلانگ کر میں اور فیض بھٹی بازار کی ویڈیو شاپ پرایک ایک روپیہ دیکر وی سی آر پر فلم دیکھنے جاتے، یہاں بشیر چھولے والی کی ریڑھی،کچے پیازوں،چٹنی بھرے چھولوں کا ذائقہ آج بھی نہ بھول پایا، یہاں فلاں ماسٹر سے پھینٹی لگی ، یہاں صبح اسمبلی ہوتی ،یہاں ہاکی کھیلی جاتی ،یہاں کرکٹ کھیلتے ،یہ مسجد، جہا ں پڑھائی سے بچنے کیلئے ظہر سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی نماز پڑھنے پہنچ جاتے ، کیا دن تھے، صبح سویرے پنڈ سے سٹرک پر، بس سے لٹک کر اسکول ،واپسی بس کی چھت پر، فکر نہ فاقہ، عیش کر کاکا ،پھر گاؤں سے نکلے ، دور ہی نکل گئے ، کیوں ، اپنے محسن میجر عامر کے لاڈلے ناصر علی سید کا شعر یاد آگیا: کچھ شہر کی شاموں میں بھی اک سحر تھا ناصرؔ ۔۔۔کچھ گاؤں کی صبحوں نے بھی ہم کو نہ پکارا

استاد ِمحترم حسن نثار اسلام آباد کو کوفہ کہیں ، گریڈوں ،عہدوں بھرا اسلام آباد ہے تو پاکستان کا کوفہ ہی ،مگر اس کوفے کاہر موسم بے مثال، گرمیوں ،سردیوں کا اپنا مزا،بہار ،خزاں کا اپنا حسن اور بارشیں، لفظوں میں بیان کرنا مشکل ، مگر بات وہی ،پنڈ کیوں یا د آئے، یہ کیسی کشش کہ ایل کے ایڈوانی سے کلدیپ نیئرتک ،سنجے دت کے والد سنیل دت سے دلیپ کمار تک بھارت میں رہ کر پاکستان میں اپنی جائے پیدائش کو یاد کریں ، دلیپ کمار نشان امتیاز لینے آئے ،خاص طور پر پشاور گئے، اپنے محلے میں آنکھیں بھر آئیں،گم صم گھروں ،گلیوں کو دیکھتے رہے ، آبائی گھر کی دیواروں کو چوما ، کلدیپ نیئرکبھی سیالکوٹ نہ بھولے ، شا عر، نغمہ نگار سمپورن سنگھ کا لرا المعروف گلزار کو جہلم ، راج کپور ،شاہ رخ کو پشاور ، امریش پوری کو لاہور،سنجے دت کی ماں فاطمہ رشید المعروف نرگس کو راولپنڈی، ایل کے ایڈوانی کو سندھ اور کراچی کےا سکول کے دن کبھی نہ بھولے ، من موہن سنگھ آج بھی پنجاب کو یاد کریں ، استاد دامن کہا کرتے،پنڈت نہرو نے شہریت دینے کی پیشکش کی ،میں نے کہا’’ پاکستان میں رہوں گا خواہ جیل میں رہنا پڑے‘‘ ان سب کو چھوڑیں ، ان کی کیا حیثیت،کائنات کے حُسن ،امام الانبیاء رحمۃ للعالمین ،میرے پیارے نبی حضرت محمدﷺ مکہ سے مدینہ تو آگئے ،مگر کبھی مکہ بھلا نہ پائے، ایک بارفرمایا’’ اے مکہ تو کتنا پیارا ،تو مجھے کتنا محبوب ،اگر میری قوم نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کہیں اور نہ رہتا‘‘ ،ایک بار اصیل غفاری ؓ مکہ کی تعریف کرنے لگ.

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)